اگر ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو گئی ہے تو ہم سے بھی کر لے، شیخ رشید کی پیش کش

ہم اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ہماری ہے ،عمران خان ، حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں، وزیر داخلہ شیخ رشید
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 20 مئی 2021) اگر ن لیگ کی صلح ہو گئی ہے تو اچھی بات ہے ،ہمارے ساتھ بھی صلح کر لو ، ہم اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ہماری ہے، وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپوزیشن کو صلح کی پیش کش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اگر ن لیگ کی صلح ہو گئی ہے تو اچھی بات ہے ،ہمارے ساتھ بھی صلح کر لو ، ہم اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ہماری ہے ،عمران خان ، حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔
مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے مزید کہا کہ یہ بزدل لوگ ہیں ، دنیا میں قائد حزب اختلاف اپنے ملک میں آنا چاہتے ہیں لیکن یہ سحری کے وقت فرار ہو گئے تھے۔ ایک دن میں درخواست دائر ہوئی ، اس پر عائد اعتراض ختم ہوا اور سماعت ہوئی اور اسی دن بیرون ملک جانے کی ٹکٹ بھی خرید لی ۔
اللہ کے گھر سے ہو کر آیا ہوںدعوے سے کہتا ہوں کہ میں بھاگنے کی بجائے اڈیالہ جیل میں پھانسی پر لٹکنے کو ترجیح دیتا ، یہ بھگوڑے ہیں یہ صورتحال کا سامنا نہیں کر سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور شوگر ملز کے معاملے کو شہزاد اکبر دیکھ رہے ہیں جو معاملات مجھ سے منسلک ہیں ان کے بارے میں سوال کریں۔ شریف خاندان کے پانچ لوگ مفرور ہیں ، 14ملزمان ہیں جن میں سے چار ان کے خلاف سلطانی گواہ ہیں ،حدیبیہ پیپر ملز کا کیس بھی دو سے تین ہفتے میں دائر کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہا کہ نواز شریف کو باہر بھجوانے کا معاملہ بڑی مہارت سے ڈیزائن کیا گیا او رمیڈیا کو بھی مینج کیا گیا ، میں بر ملا کہتا ہوں کہ میں بھی ان چودہ وزراء میں شامل ہوںجنہوں نے کہا کہ باہر جانے دیں لیکن آج میں جس عہدے پر ہوںان کا نام ای سی ایل پر ڈالا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میں دل سے کہہ رہا ہوں کہ جہانگیر ترین گروپ بجٹ کی منظوری میں ووٹ دے گا ، جو گلے شکوے ہیں وہ دور کرنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرا علیٰ عثمان بزدار کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آرہی ، ’’مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا ‘‘ ۔ انہوں نے کالعدم تحریک لبیک کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں کمیٹی کا معاملہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں آئے گا اور کالعدم قرار دئیے جانے کے حوالے سے وہ ایک مہینے میں اپیل کر سکتے ہیں ، اسی طرح شہباز شریف کے پاس نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کے بعد پندرہ روز کا وقت ہے ، انہیں اچھا تو نہیں لگے گا کہ پیش ہوں لیکن وہ اپیل کر سکتے ہیں یا خود پیش ہو سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ علی ظفر پر فریقین کو اعتماد ہے ، اگر علی ظفر نے رپورٹ مرتب کر لی ہے تو اسے جمع کرائیں او رجان چھڑائیں ، اسے پیش کر دینا چاہیے تاکہ یہ معاملہ ختم ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) دو پارٹیاں ہیں، ایک شہباز کی پارٹی جو میری پارٹی کے آدمی ہیں اور ایک نواز شریف اور مریم نواز کی پارٹی ہے جس نے انہیں نہج پر پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پی ڈی ایم کے مستقبل کے بارے میں پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی ، آج پی ڈی ایم کہاں ہے ، یہ ٹیں ٹیں فش ہے ، یہ 31دسمبر کی تاریخیں دے رہے تھے ، اب یہ کہاں ہیں کیا انہیں لانے کے لئے اکیس توپوں کی سلامی دیں ، میری ہمدردیاں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں ۔
واضح رہے کہ مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو گئی ہے، جس کے بعد ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا تھا، جس کے بعد ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے محمد زبیر سے اُن کے بیان کی تفصیلات طلب کر لی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.