جہانگیر ترین گروپ کی بغاوت، اپوزیشن نے حکومت کو بوریا بستر گول کرنے کیلئے غور و فکر شروع کر دیا

حکومت کی غلط پالیسیوں سے اپوزیشن اپنے آپ کو گندا نہیں کرے گی، جہانگیر ترین نے الگ گروپ بنا لیا، پی ٹی آئی نے اپنی رہی سہی اکثریت بھی کھودی ہے، ہمارے پاس حکومت مخالف تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان
لاہور (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 20 مئی 2021) جہانگیر ترین گروپ کی بغاوت، اپوزیشن نے حکومت کو بوریا بستر گول کرنے کیلئے غور و فکر شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے غیر ملکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’اپوزیشن بجٹ میں حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں، حکومت کی غلط پالیسیوں سے اپوزیشن اپنے آپ کو گندا نہیں کرے گی۔
‘انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے الگ گروپ بنا لیا، پی ٹی آئی نے اپنی رہی سہی اکثریت بھی کھودی ہے، ہمارے پاس حکومت مخالف تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔صدر پی ڈی ایم نے کہا حکومت مخالف تحریک کے لیے ہم نیا لائحہ عمل جاری کریں گے، جس میں احتجاجی ریلیاں اور جلسے شامل ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں تمام فیصلے پی ڈی ایم کی مشاورت سے کیے جائیں گے ۔
پی ڈی ایم میں پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف سے متعلق کہا کہ ان کے جیل سے باہر آنے سے پی ڈی ایم کو تقویت ملے گی۔دریں اثنا، مولانا فضل الرحمان نے مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔دوسری جانب جہانگیرترین گروپ نے بجٹ سیشن میں شرکت کیلئے مشروط آمادگی ظاہرکردی ہے،حکومت بجٹ سیشن سے قبل تحفظات دور کرے گی توبجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے، عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
جہانگیرترین گروپ کے تحفظات سامنے آنے پر حکومت نے ترین گروپ سے رابطہ کیا ہے، حکومت کی طرف سے سینئروزراء اور وزراء نے ترین گروپ سے رابطہ کیا ہے۔حکومتی ارکان نے ترین گروپ سے درخواست کی کہ بجٹ سیشن کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کوترین گروپ سے بجٹ سیشن میں عدم شرکت کا خطرہ ہے ، کیونکہ جہانگیرترین کے پاس ارکان کے جتنے نمبرز ہیں، وہ اگر بجٹ سیشن میں شرکت نہیں کرتے تو وفاق اور پنجاب میں بجٹ کو منظور کروانا مشکل ہوجائے گا۔
ترین گروپ کے ارکان نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ترین گروپ کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔جہانگیرترین گروپ نے مشروط طور پر بجٹ سیشن میں شرکت کیلئے آمادگی ظاہرکردی ہے۔حکومتی اور ترین گروپ کے ارکان کے درمیان جلد ملاقات بھی متوقع ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.