راولپنڈی رنگ روڈ کی انکوائری رپورٹ مسترد ، مسلم لیگ ن نے دو اہم وزراء کی برطرفی کا مطالبہ کردیا

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن نےراولپنڈی رنگ روڈ کی انکوائری رپورٹ مسترد اور ’خانہ پری‘قرار دیتے ہوئے دو اہم وزراء کی برطرفی کا مطالبہ کردیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بزدار حکومت نے اربوں روپے کے سکینڈل پرمٹی پاؤ رپورٹ تیار کی،سابق کمشنر راولپنڈی اور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹرکو ذمہ دار قراردینا شرمناک ہے ،تین ارب روپے کی مبینہ کرپشن میں سرکاری افسران کو قربانی کا بکرا بنایاگیا،راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں تین ارب سے زائد کی کرپشن ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی انکوائری چیف سیکرٹری نہیں کرسکتے ،راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل ہے جسے نیب کو بھیجا جائے۔عثمان بزدار اور اس کے حواریوں کے خلاف کیس چلایا جائے ،عمران خان کی ناک کے نیچے کرپشن کی گئی اور اس کے تانے بانے وزیر اعظم ہاؤس سے ملتے ہیں،جس طریقے سے زمین خریدی اور سلمان شاہ نے اس کی منظوری دی کیا وزیر اعظم کو علم نہیں؟معاوضہ من پسند کو دیا ،سڑک کو ان علاقوں سے گزارا جہاں عمران خان کے دوست اور مشیر رہتے ہیں ،غلام سرور اور زلفی بخاری کو فوری برطرف کیا جائے اور ان سے استعفے لئے جائیں۔

یاد رہے کہ رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں کرپشن اور بےضابطگیوں کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ وزیر اعلی پنجاب کو بھجوادی گئی ہے جس کے مطابق سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود اور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر وسیم علی تابش کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے. محمد محمود اور وسیم علی تابش کا کیس نیب بھجوانے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں، دونوں افسران نے غیر قانونی لینڈ ایکوزیشن پر 2.3 ارب روپے تقسیم کئے،اتنی بڑی رقم کی ادائیگی اٹک لوپ کے رینٹ سینڈیکیٹ کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی۔وسیم علی تابش نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ضلع اٹک میں 2 ارب سے زائد کی رقم خرچ کی۔ر پورٹ میں رینٹل سینڈیکیٹ میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف تحقیقات کا کہا گیا ہے جبکہ سا بق کمشنر راولپنڈی کے بھائی کا مکہ سٹی کے ساتھ تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔ سا بق ڈویژ نل کمشنر نے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کیلئے یااس کے ذریعے بے نامی طریقے سے خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، قواعد و ضوابط اور انتظامی قوانین کی دھجیاں اڑانے پر اسٹیبلیشمنٹ ڈویژ ن ڈسپلنری ایکشن لے۔ رپورٹ میں ڈاکٹرتوقیر شاہ اور نیسپاک کے چند افسران کو بھی ان بے ضابطگیوں میں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.