قرضوں کے سود کی وجہ سے حکومت کے پاس دفاعی بجٹ کیلئے بھی پیسے نہیں ہوں گے، بلاول

حکومت اب تک 33 ارب ڈالر سے زائد کا غیرملکی قرضہ لے چکی ہے، روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ پر واہ واہ سمیٹنے والے عمران خان 7 فیصد سود پر 1 ارب ڈالر سے زائد لے چکے ہیں، حکومت عوام اور تاجروں کے ٹیکسوں کے 710 ارب روپے واپس نہ کرکے ایک نیا گردشی قرضہ پیدا کرچکی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کی پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 8 مئی 2021ء ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان نے 25 سال اس لئے جدوجہد کی کہ ہر پاکستانی کو پونے دولاکھ روپے کے حکومتی قرضے کے بوجھ تلے دباسکیں ، روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ پر واہ واہ سمیٹنے والے عمران خان کیوں نہیں بتاتے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں سے سات فیصد سود پر ایک ارب ڈالر سے زائدلے چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرضوں کے خلاف جھوٹی مہم چلا کر پی ٹی آئی حکومت اب تک 33 ارب ڈالر سے زائد کا غیرملکی قرضہ لے چکی ہے ، قرضوں کے سود کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد ترقیاتی بجٹ تو درکنار دفاعی بجٹ کے لئے بھی حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوں گے، عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے عمران خان کی حکومت کے شاہانہ اخراجات 28 سالہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوچکے ہیں ، عوام کو معاشی ٹیم کا لالی پاپ دینے والے عمران خان کی حکومت سخت شرائط پر قرضے لے کر اپنی آمدنی سے 10 کھرب روپے زیادہ خرچ کرچکی ہے ، کبھی قرضہ نہ لینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کی حکومت کے نو ماہ میں ڈھائی کھرب روپوں پر مشتمل ملکی خزانے کا 82 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوچکا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ نرخوں میں سینکڑوں فیصد اضافے کے بعد بھی صرف بجلی کے شعبے میں ڈھائی کھرب اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ 350 ارب روپوں سے زیادہ ہوچکا ہے ، پی ٹی آئی حکومت کی حالت یہ ہے کہ عوام اور تاجروں کے ٹیکسوں کے 710 ارب روپے واپس نہ کرکے ایک نیا گردشی قرضہ پیدا کرچکی ہے، جب 650 ارب روپے کےترقیاتی پروگرام میں سے حکومت مالی سال کے 11ویں ماہ میں بھی صرف 40 فیصد خرچ کرے گی تو معاشی ترقی کے اہداف کیسے پورے ہوں گے؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.