وزیر خزانہ سے شہزادارباب کی ملاقات ، شوکت ترین نے معاشی اہداف بارے بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین سےوزیراعظم کےمشیربرائےاسٹیبلشمنٹ شہزاد اربا ب نے ملاقات کی جسمیں وفاقی وزارتوں کی ورکنگ سے متعلق پرفارمنس ایگریمنٹ پر بریفنگ دی گئی۔وزیر خزانہ کو بتایاگیاکہ متعلقہ وزارتوں یا ڈویژنز کیلئے اہم سالانہ اہداف، مقاصد مقرر کئے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے پرفارمنس ایگریمنٹس کا دائرہ تمام وزارتوں تک بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ وزارتوں کی کارکردگی کا سہہ ماہی بنیاد پر جائزہ لیا جائے، اس سے متعلقہ وزارت کو سالانہ اہداف پورے کرنے کیلئے کارکردگی جانچنے کا موقع ملے گا۔

دوسری طرف عالمی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں پر اخراجات میں 40 فیصد اضافے کا ارادہ رکھتی ہے،مالی سال 2022ء میں ترقیاتی اخراجات کے لئے 900 ارب روپے رکھیں گے، معیشت میں روزگار اور پیداواری بڑھانے کے لیے عوامی اخراجات میں اضافہ کیا جائیگا، اگلے سال ملکی معیشت میں پانچ فیصد اضافے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کی توقع ہے کہ مالی سال 2022ء میں معیشت چار فیصد بڑھے گی،مالی سال 2021ء میں مالی خسارہ سات فیصد تک ہوگا،گذشتہ مالی سال میں مالی خسارہ ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال میں مالی خسارہ ایک سے ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک ہوگا،امید ہے کہ مالی سال 2023ء میں معیشت کی ترقی چھ فیصد ہوگی، ہر سال 20 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مالی سال 22 میں محصولات کا ہدف چھ کھرب روپے رکھا جائیگا،رواں مالی سال محصولات کا ہدف چار ہزارسات سوارب روپے ہے،اگلے دو سالوں میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کو آٹھ ارب ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے، پاکستان کا جلد ہی سکوک بانڈز جاری کرنے کا ارادہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.