ملک کے سینئر ترین قانون دان نے بشیر میمن کے الزامات پلانٹڈ قرار دے دیے

جسٹس فائز عیسیٰ کیس ہار جاتے تو پھرالزامات کی بات کچھ اور ہوتی، بشیر میمن کوئی گواہ بھی پیش نہ کر سکے، الزامات بھی مجھے معتبر نہیں لگے، اعتزاز احسن
کراچی (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 28اپریل 2021) جسٹس فائز عیسیٰ کیس ہار جاتے تو پھرالزامات کی بات کچھ اور ہوتی، بشیر میمن کوئی گواہ بھی پیش نہ کر سکے، الزامات بھی مجھے معتبر نہیں لگے، ملک کے سینئر ترین قانون دان نے بشیر میمن کے الزامات پلانٹڈ قرار دے دیے۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما اور ملک کے سینئر ترین قانون دان اعتزاز احسن کاکہناہے کہ بشیر میمن سبق یاد کیا ہوا لگتا تھا ،الزامات میں کوئی وزن نہیں ہے ،جسٹس فائز عیسیٰ کیس ہار جاتے تو پھرالزامات کی بات کچھ اور ہوتی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہاکہ بشیر میمن کے الزامات میں معتبرگواہ مجھے محسوس نہیں ہوا،بشیر میمن خود بھی مجھے معتبرگواہ کے طور پر محسوس نہیں ہوا۔
ان کے الزامات پلانٹڈ لگتے ہیں؂ا نہوں نے کہاکہ بشیر میمن ریہرسل کیا ہو الگتا تھا نہ ہی وہ کوئی گواہ پیش کر سکے ،سابق ڈی جی ایف آئی اے اتنی روانی کیساتھ بھی بول نہیں سکے کہ یقین کیاجائے۔

پی پی رہنما نے کہاکہ مریم نواز نے اس سے پہلے بھی کہاتھا کہ میرے پاس اور بھی ثبوت ہیں ،مریم نواز کا مطلب تھا میں اورلوگوں سے بیانات دلواسکتی ہوں ،اعتزازاحسن نے کہاکہ بشیر میمن کے الزامات مجھے معتبر نہیں لگے۔ان کاکہناتھا کہ آصف زرداری اورخورشیدشاہ کیخلاف گواہ بنائے ہی بشیر میمن نے تھے،آصف زرداری اور خورشیدشاہ سے توبشیر میمن کو بڑا بغض تھا،آج سابق ڈی جی ایف آئی اے کہتے ہیں میں نے کیسز بنانے سے انکار کیا،بشیر میمن کو ہدایت کی ضرورت نہیں تھی وہ خود کیسز بنانے میں ماہر تھے۔
اعتزاز احسن نے کہاکہ بشیر میمن کے پاس ان الزامات سے متعلق کیا ثبوت ہوں گے ،جسٹس فائز واپس آگئے بشیر میمن سے یہ بات ڈلوائی ہی اسی لئے گئی ،بشیر میمن سمجھتے ہیں جسٹس قاضی فائز اسے عہدے پر بحال کردینگے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.