نیب کی جانب سے ای اسی ایل میں نام ڈالنے کی سفارش پر احسن اقبال کا ردعمل آگیا

میرا پاسپورٹ تو پہلے ہی نیب کی تحویل میں ہے، پھر میں باہر کیسے جاؤ؟ نالائقو! میرا پاسپورٹ کہیں گم تو نہیں کر دیا، احسن اقبال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 28اپریل 2021) نیب کی جانب سے ای اسی ایل میں نام ڈالنے کی سفارش پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا پاسپورٹ تو پہلے ہی نیب کی تحویل میں ہے، پھر میں باہر کیس جاؤں؟۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے احس اقبال کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر دی ہے، جس کے بعد احسن اقبال کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے۔
احسان نے نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نالائقو! میرا پاسپورٹ کہیں گم تو نہیں کر دیا تم نے۔ خیال رہےکہ نیب نے احسن اقبال کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کیلئے وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے جس میں اُن کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔خط کے متن کے مطابق احسن اقبال کا نام ای سی ایل پر ڈالا جائے تاکہ وہ بیرون ملک نہ جا سکیں۔
خیال رہے کہ احسن اقبال کے خلاف نارووال اسپورٹس کمپلیکس کا کیس احتساب عدالت میں زیرسماعت ہے جب کہ اس کیس میں وہ ہائیکورٹ سے ضمانت پر ہیں۔

گذشتہ روز سماعت کے دوران احسن اقبال عدالت پیش ہوئے اس موقع پر جونیئر وکیل نے استدعاکی کہ احسن اقبال کے سینئر وکیل موجود نہیں ہیں سماعت ملتوی کی جائے،عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسارکیا کہ کیا نیب کے گواہ موجود ہیں،جس پرپراسیکیوٹر نے بتایاکہ جی دونوں گواہان کمرہ عدالت میں موجود ہیں،عدالت نے کہاکہ سماعت ملتوی کی جاتی ہے، دونوں گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جائینگے،اس موقع پر احسن اقبال نے کہاکہ رمضان چل رہا ہے گواہان نے جھوٹی گواہیاں دینی ہے، رمضان کے بعد رکھیں،جج اصغر علی نے کہاکہ یہ تو اللہ جانتا ہے کون سچا ہے کون جھوٹا،اس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ لگ گیا، عدالت نے مزیدسماعت 27 اپریل تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس احتساب عدالت نے نارووال سپورٹس سٹی کیس میں احسن اقبال پر فرد جرم عائدکی تھی۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے صحت جرم سے انکارکرتے ہوئے کہاتھا کہ جج نے پہلے دیکھنا ہوتا ہے یہ کیس بنتا بھی ہے یا نہیں،جج اصغر علی نے کہاکہ ہم یہاں ایسی باتیں سننے نہیں بیٹھے ہوئے۔جج اصغر علی نے کہاتھا کہ آپ نے کوئی درخواست دائر کرنی تو کریں یا اپنے وکیل کے ذریعے بات کریں ، ہم سامنے پیش کیا گیاریکارڈ دیکھ کر ہی کہہ رہے ہیں یہ بادی النظر میں کیس بنتا ہے، جہانگیر جدون نے کہاکہ کہاں کیس بنتا ہے، کیا ہمارے ماتھے پر لکھا ہوا ہے؟ ،جج اصغر علی نے کہاکہ فیصلے سے پہلے فیصلہ نہیں سنا سکتے ، شواہد دیکھے جائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.