ہم اس قابل نہیں کہ 24 گھنٹے بھی دشمن سے لڑ سکیں اسی لیے بھارت سے مفاہمت کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں

کشمیر کا سودا کرکے کشمیریوں کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، قوم کے مستقبل کے فیصلے منافقت کے ساتھ اور چوری چھپے ہو رہے ہیں: پے درپے سیاسی شکستوں سے دوچار مولانا فضل الرحمان کا قومی سلامتی سے متعلق انتہائی قابل اعتراض بیان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2021ء) سربراہ کے یو آئی ف کے مطابق ہم اس قابل نہیں کہ 24 گھنٹے بھی دشمن سے لڑ سکیں اسی لیے بھارت سے مفاہمت کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پے درپے سیاسی شکستوں سے دوچار مولانا فضل الرحمان کا قومی سلامتی سے متعلق انتہائی قابل اعتراض بیان سامنے آیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے قومی سلامتی سے متعلق متنازعہ بیانات دے کر اپنی سیاسی شکستوں کا غصہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کا سودا کرکے کشمیریوں کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، قوم کے مستقبل کے فیصلے منافقت کے ساتھ اور چوری چھپے ہو رہے ہیں۔ جے یو آئی ف کے امیر نے الزام عائد کیا کہ ہم دشمن سے 24 گھنٹے بھی جنگ لڑنے کے قابل نہیں اسی لیے مفاہمت کے راستے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔
جھوٹ بولا جارہاہے کہ بھارت بات کرنا چاہتا ہے جبکہ ہم اس قابل نہيں ہے کہ 24گھنٹے بھی دشمن سے جنگ لڑسکيں، اس ليے ہم مفاہمت جانب جارہے ہیں۔ حقیقت میں ہماری پوزیشن کمزور ہوتی جارہی ہے، ہم ترلے کررہے ہیں ،حکمرانوں میں معاملات چلانے کی صلاحیت ہی نہیں ۔ میں نے تھوڑی سی اشاروں کنایوں میں بات کہہ دی ہے، امید ہے جہاں پہنچنی چاہیے وہاں پہنچ جائے گی،ہم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں، آپ چوری چھپے قوم سے دھوکہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی میدان میں تھے، اب بھی ہیں اور آگے بھی میدان میں رہیں گے،رمضان شریف کے بعد ہم پہلے سے بہتر طاقت کے ساتھ میدان میں ہونگے۔ ہم جب بالکل تنہا تھے تب بھی پورے ملک کی سیاست پر چھائے ہوئے تھے،اب بھی اگر کوئی اکا دکا ادھر ادھر ہوجائے تو پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں سیاست ہی ختم ہوچکی ہے،ہمیں ایسی قیادت کو آگے لانا ہوگا جس پر قوم اعتماد کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.