24 گھنٹوں میں 25 ہزار سیلنڈر کی فلنگ! اسٹیل مل کے پلانٹ چلنے کے قریب، انجنیئرز نے بڑا قدم اُٹھا لیا

کراچی (نیوز ڈیسک ) ملک بھر میں کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور آکسیجن کی قلت کے خدشے کے پیش نظر انجینئیرز کی رجسٹرڈ تنظیم نیشنل انجینئیرز ویلفئیر ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو خط ارسال کردیا ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ارسال کیے گئے خط میں نیشنل انجینئرز ویلفئیر ایسوسی ایشن نے پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کی بحالی کے لیے پیشہ وارانہ خدمات قومی جذبہ کی ساتھ فراہم کرنے کی پیشکش کی ۔

نیشنل انجینئرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسٹیل مل کے ایک پلانٹ سے یومیہ 25 ہزار سلنڈرز بھرے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ پاکستان اسٹیل میں 260 ٹن یومیہ کے دو پلانٹ نصب ہیں، یورپی ساختہ پلانٹس میں سے ہر ایک پلانٹ فی گھنٹہ 7500 کیوبک میٹر آکسیجن پیدا کرسکتا ہے، جب کہ ایک پلانٹ سے یومیہ 25 ہزار سیلنڈرز بھرے جاسکتے ہیں، نیشنل انجینئرز اپنے وسیع تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے آکیسجن پلانٹ کی بحالی کے اپنی خدمات فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کا آکسیجن پلانٹ 2015ء سے بند ہے جسے 40 افراد پر مشتمل عملے کی مدد سے 8 سے 12 روز میں فعال کیا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی پاکستان اسٹیل کے ملازمین اور ورکرز یونین کے رہنماؤں نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ موجودہ حالات میں پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کو فعال کرکے پورے پاکستان میں آکسیجن کی طلب پوری کی جاسکتی ہے اور آکسیجن کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کہتے ہیں کہ اگر اس وقت پاکستان اسٹیل آکسیجن پلانٹ چل رہا ہوتا تو آج پورے پاکستان میں کورونا کے متاثرین کو ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی تھی تاہم آکسیجن پلانٹ 2015ء میں چلتی حالت میں یہ کہ کر بند کردیا گیا کہ جب اسٹیل ہی نہیں بنا رہے تو آکسیجن کی کیا ضرورت ہے ، اس پلانٹ میں 40 افراد کام کرتے تھے جن میں سے کچھ کو نکال دیا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.