ملک میں آکسیجن کی وافر فراہمی کیلئے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین میدان میں آگئے

پاکستان اسٹیل ملز کا برسوں سے بند آکیسجن پلانٹ ہنگامی بنیادوں پر صرف ایک ہفتے میں فعال کرنے کی پیشکش کردی ، یومیہ 520 ٹن 99 اعشاریہ 5 فیصد خالص آکسیجن پیدا ہوسکے گی اور ملک میں آکسیجن کی قلت کا خدشہ ختم ہوجائے گا ، رپورٹ
کراچی ( اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 25 اپریل2021ء ) ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے دوران آکسیجن کی وافر فراہمی کیلئے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین میدان میں آگئے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیل کے ملازمین نے ادارے کا برسوں سے بند آکیسجن پلانٹ ہنگامی بنیادوں پر صرف ایک ہفتے میں فعال کرنے کی پیشکش کی ہے ، جس سے یومیہ 520 ٹن 99 اعشاریہ 5 فیصد خالص آکسیجن پیدا ہوسکے گی اور ملک میں آکسیجن کی قلت کا خدشہ مکمل طور پر ختم ہوجائے گا ، اس مقصد کے لیے پاکستان اسٹیل کے ملازمین اور ورکرز یونین کے رہنماؤں کی جانب سے حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کو فعال کرکے پورے پاکستان میں آکسیجن کی طلب پوری کی جاسکتی ہے اور آکسیجن کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا ۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیل کا آکسیجن پلانٹ 2015ء سے بند پڑا ہے ، جسے صرف 8 سے 12 روز میں فعال کیا جاسکتا ہے ، اس پلانٹ کو چلانے کے لیے 40 افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہوگی ، اب چوں کہ ملک کو ضرورت ہے تو ہنگامی بنیادوں پر 24 گھنٹے کام کر کےصرف ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جب کہ ادارے کے فیبریکیٹنگ ڈپارٹمنٹ میں آکسیجن کے سلنڈرز بھی تیار کیے جاسکتے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کہتے ہیں کہ اگر اس وقت پاکستان اسٹیل آکسیجن پلانٹ چل رہا ہوتا تو آج پورے پاکستان میں کورونا کے متاثرین کو ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی تھی تاہم آکسیجن پلانٹ 2015ء میں چلتی حالت میں یہ کہ کر بند کردیا گیا کہ جب اسٹیل ہی نہیں بنا رہے تو آکسیجن کی کیا ضرورت ہے ، اس پلانٹ میں 40 افراد کام کرتے تھے جن میں سے کچھ کو نکال دیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.