شریف خاندان کی ذہنیت آشکار کردینے والا میاں شریف مرحوم کا سچا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) پارلیمنٹ ہائوس میں کی گئی تقریر سے لگ رہا تھا‘ وزیر اعظم عمران خان کو خدشات ہیں کہ مائنس ون کی بات چل رہی ہے۔ہر دفعہ ہم سنتے ہیں‘ فلاں فلاں کو مائنس ون کر دیا جائے تو ان کی پارٹی یا حکومت قابل قبول ہو گی۔ یہ مائنس ون کا فارمولہ پہلے

کراچی میں الطاف حسین کے حوالے سے سننے میں آیا جب ایم کیو ایم کو یہ مشورہ دیا گیا‘ بہتر ہو گا‘ ان کے بغیر ایم کیو ایم کو سیاسی بنیادوں پر چلائیں۔ نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کراچی میں الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم نہیں چل سکتی تھی؛ اگرچہ پارٹی میں چند بغاوتیں ہوئیں، نئے گروپس بنے، فوجی اور پولیس ایکشن ہوئے لیکن الطاف حسین مائنس ون نہ ہو سکے۔ آخرکار انہوں نے خود ہی ایسی تقریریں کر ڈالیں اور مائنس ون ہو گئے۔ اس مائنس ون کا شور اس وقت بھی سننے میں آیا‘ جب غلام اسحاق خان نے میاں شریف کو کہا تھا: آپ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنائیں کیونکہ بڑے بھائی کو سیاست سمجھ آتی ہے‘ نہ ہی گورننس۔ سنا ہے انہوں نے مشہور زمانہ جواب دیا تھا: اگر چھوٹا بیٹا سیاست کو دے دیا تو پھر کاروبار کون چلائے گا۔ مطلب جس بیٹے کو وہ کاروبار چلانے کے اہل نہیں سمجھتے تھے اسے ملک چلانے پر لگا دیا۔ شہباز شریف کے اپنے برخوردار سلمان شہباز بڑے ہوئے تو انہوں نے باپ کا کاروبار سنبھال لیا اور ایسا سنبھالا کہ تفصیلات پڑھ کر کانوں سے دھواں نکل آئے۔ ایسی منی لانڈرنگ ہوئی اور اتنا پیسہ آیا کہ رکھنے کو جگہ نہ ملی اور لندن نکل گئے۔ مشرف بھی یہی فرمائش لے کر رائے ونڈ میاں شریف سے ملنے گئے تھے کہ بہتر ہوگا نواز شریف کو مائنس کرکے شہبازکو وزیراعظم بنا دیں۔ وہ نہ مانے تو بارہ اکتوبر کا مارشل لاء لگا۔

نواز شریف گرفتار ہوئے اور پھر جلاوطن۔ جلاوطنی کے دنوں میں بھی خفیہ مذاکرات چلتے رہے کہ نواز شریف کو مائنس کر دیں تو شہباز شریف کو جنرل مشرف قبول کر سکتے ہیں۔ وہ پھر بھی نہ مانے اور آخر نواز شریف واپس آئے اور پھر انہیں ہمیشہ کے لیے مائنس ون کرکے واپس لندن بھیج دیا گیا۔اسی طرح آصف زرداری کو مائنس ون کرنے کی باتیں بینظیر بھٹو کے پہلے دور سے ہی شروع ہو گئی تھیں جب ان پر بدعنوانی کے الزامات لگنا شروع ہوئے اور مقدمے بھی بنے جس میں وہ گرفتار رہے۔ بعد میں ضرورت پڑنے پر انہی اسحاق خان نے انہیں وزارت کا حلف دلوایا جنہوں نے جیل بھیجا تھا۔ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت زرداری چلا رہے تھے۔ وہ گرفتار ہوئے اور 2004 میں اس وقت رہا ہوئے جب یہ طے ہو گیا کہ وہ اب پاکستانی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ پیپلز پارٹی میں بینظیر بھٹو کی بجائے زرداری کو مائنس کرنے پر زور تھا۔ اگرچہ بینظیر بھٹو کو بھی امن کا رسک قرار دے کر مائنس ون کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ جب بینظیر بھٹو پاکستان جلاوطنی کے بعد لوٹیں تو زرداری دوبئی میں تھے۔ پھر بینظیر بھٹوکو زندگی سے محروم کر دیا گیا تو زرداری ملک کے صدر بنے‘ اور پھر وہ بھی اب مائنس ون کی صورت حال کا سامنا کرتے رہے ۔ اس وقت عمران خان صاحب کو بھی لگتا تھا کہ پاکستان کے مسائل کا حل الطاف حسین، بینظیر، نواز اور زرداری کو مائنس ون کرنے میں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.