چاردیواری کے اندر 60 فٹ کی دوری بھی کووڈ سے بچانہیں سکتی، تحقیق

کوئی فرد ماسک پہن کر سانس لیتا تو ہوا اوپر سے نکل کر کمرے میں کہیں بھی گرجاتی ہے اوروائرس کا خطرہ بڑھ جاتاہے،رپورٹ
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 25 اپریل2021ء) چاردیواری کے اندر کووڈ 19 کے شکار ہونے کا خطرہ 60 فٹ کی دوری سے بھی اتنا زیادہ ہی ہوتا ہے جتنا 6 فٹ کی دوری سے، چاہے فیس ماسک ہی کیوں نہ پہن رکھا ہو۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)کی اس تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ چار دیواری کے اندر سماجی دوری کووڈ 19 سے بچا ئوکے لیے کس حد تک موثر ہے۔
اس مقصد کے لیے محققین نے کسی چاردیواری کے اندر کووڈ 19 کے خطرے کا تخمینہ لگانے والے ایک طریقہ کار کو تشیل دیا جس میں متعدد عناصر بشمول وہاں گزارنے جانے والے وقت، ایئر فلٹریشن اور بہا، امیونزایشن، وائرس کی اقسام، ماسک کا استعمال اور دیگر کو مدنظر رکھا گیا۔
تحقیق میں شامل ماہرین نے سی ڈی سی اور عالمی ادارہ صھت کی جانب سے جاری کووڈ 19 گائیڈلائنز پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس پر بحث کرسکتے ہیں کہ 6 فٹ کی دوری کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں، بالخصوص جب لوگوں نے فیس ماسک پہنے ہوئے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ جب کوئی فرد ماسک پہن کر سانس لیتا ہے تو ہوا اوپر کی جانب نکل کر کمرے میں کہیں بھی گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں دور بیٹھے فرد میں بھی وائرس کا خطرہ بڑھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی سی اور عالمی ادارہ صحت کو چاردیواری کے اندر وقت کے بارے میں غور کرنا چاہیے، جتنا کوئی فرد کسی چاردیواری میں متاثرہ شخص کے ساتھ وقت گزارے گا، وائرس کے پھیلا کا امکان اتنا زیادہ ہوگا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کمرے یں کھڑکی کھولنا یا ہوا کے بہا کے لیے نئے پنکھے لگانا بھی کسی نئے فلٹریشن سسٹم پر بہت زیادہ خرچے جتنا ہی موثر ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق کسی کمرے میں 20 افراد کا ایک منٹ تک رہنا تو ممکنہ طور پر خطرناک نہیں مگر کئی گھنٹوں تک ان کو وہاں نہیں رہنا چاہیے۔محققین نے بتایا کہ ہمارے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہوا کے اخراج کے مناسب نظام کے ساتھ بیماری کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے اور بند دفاتر اور اسکولوں کو کھولا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وبا کے آغاز پر دوری پر زور دینے کے عمل سے غلط رہنمائی کی گئی، سی ڈی سی یا عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے کبھی کوئی جواز پیش نہیں کیا، اس کی بنیاد بس کھانسی اور چھینکوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں سے دوری سے زیادہ مدد نہیں ملتی بلکہ تحفظ کا ایک غلط احساس ہوتا ہے کہ آہ 6 فٹ دوری پر محفوظ ہیں، حالانکہ 60 فٹ دوری پر بھی بیماری آپ تک پہنچ سکتی ہے۔
کسی کمرے کے اندر بڑے وائرل ذرات بات کرنے، سانس لینے یا کھانے سے ہوا کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔محققین کے مطابق فیس ماسک بڑے وائرل ذرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں مگر مسلسل وائرل فضا میں رہنا بیماری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ گھر سے باہر ہوا کے بہا کو دیکھیں تو وہاں وائرس سے آلودہ ہوا بہت جلد اڑ جاتی ہے اور بیماری کا خطرہ نہیں ہوتا، مگر کسی کمرے میں زیادہ لوگوں کی موجودگی میں یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.