بھارت کی ٹوئٹر سے کورونا صورتحال سے متعلق تنقیدی ٹوئٹس ہٹانے کی درخواست

بھارتی حکومت نے اپنی درخواست میں 23 اپریل کو 21 ٹوئٹس ہٹانے کا ذکر کیاہے،ٹوئٹر انتظامیہ
نیویارک /نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 25 اپریل2021ء) بھارت حکومت نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے درخواست کی ہے کہ وہ بھارت میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں حکومتی اقدامات پر تنقید کی جانے والی ٹوئٹس کو ہٹا دے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت نے قانون سازوں سمیت عام صارفین کی ٹوئٹس کو ہٹانے کی درخواست کی ہے۔
کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی قانونی درخواست کے بعد ٹوئٹر نے کچھ ٹویٹس ہٹا دی ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک منصوبے لیومین ڈیٹا بیس پر ٹوئٹر نے انکشاف کیا کہ حکومت نے ٹوئٹس سنسر کرنے کا ہنگامی حکم دیا۔جن لوگوں کی ٹوئٹس ہٹائی گئی ان میں قانون ساز ریو ناتھ ریڈی، ریاست مغربی بنگال کے وزیر مولے گھٹک اور فلمساز اویناش داس شامل ہیں۔
ٹوئٹر کے ترجمان نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ جب ہمیں کوئی قانونی درخواست موصول ہوتی ہے تو ہم ٹوئٹر قواعد اور مقامی قانون دونوں کے تحت اس کا جائزہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مواد ٹوئٹر کے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو مواد کو سروس سے ہٹا دیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ کسی خاص دائرہ اختیار میں غیر قانونی ہوتا ہے لیکن ٹویٹر قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہے تو ہم صرف بھارت میں موجود مواد تک رسائی کو روک سکتے ہیں۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ ٹوئٹر نے اکانٹ ہولڈرز کو اپنا مواد روکنے کے بارے میں براہ راست مطلع کیا ہے اور انہیں بتایا کہ ان کے ٹوئٹس سے متعلق قانونی حکم ملا ہے۔علاوہ ازیں ٹیکنالوجی کی نیوز ویب سائٹ ٹیک کرچ نے کہا کہ صرف ٹوئٹرہی حکومتی آرڈر سے متاثرہ واحد پلیٹ فارم نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.