آصف زرداری پر ڈیڑھ سو ارب کا کیس تھا،وہ جیل سے باہر کیسے آئے؟

شہزاد اکبر اگر ایماندار آدمی ہیں تو اس بات کا جواب دیں،وگرنہ آنے والی حکومتیں پی ٹی آئی سے جواب مانگیں گی،سینئر صحافی ندیم ملک
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 24 اپریل 2021ء ) احتساب،کرپشن،روزگار اور انصاف کے ایسے خوبصورت نعرے تھے جو پی ٹی آئی حکومت نے2018کے الیکشن سے پہلے اتنی بار لگائے کہ ان کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے یہاں تک کہ عوام اگر اپنے کانوں میں انگلیاں بھی ٹھونس لیں تو انہیں پھر بھی یہ خوبصورت نعرے سنائی دیتے رہتے ہیں۔عمران خان کا ایک اور پاپولر نعرہ تھا کہ زرداری اور نوازشریف کے سوئس اکاؤنٹس میں کرپشن اور لوٹ مار کے جو پیسے پڑے ہیں وہ ان بینکوں سے لا کر ملک میں عوام کے حوالے کریں گے اور جب عمران خان اقتدار میں آئے تو انہوں نے احتساب کے دروازے کھول دیے اور اپوزیشن راہنماؤں کو پکڑ پکڑ کر جیل میں ڈالنا شروع کر دیا کہ ایک بار تو وہ وعدہ سچ ہوتا دکھائی دیا کہ ان کو رلاؤں گا میں ان کو جیلوں میں ڈالوں گا وغیرہ وغیرہ۔
مگر آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے سبھی اپوزیشن راہنما جیل سے باہر آ گئے اور کرپشن اور لوٹ مار کا ایک دھیلا بھی بازیاب نہ ہو سکا۔اب آہستہ آہستہ وزرا نے یہ ماننا شروع کر دیا ہے کہ باہر ممالک میں پڑے پیسے کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے۔ان اپوزیشن راہنماؤں میں سے ایک اہم کیس سابق صدر آصف زرداری کا بھی تھا جن پر ڈیڑھ سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا محض ایک کیس تھا جبکہ اس کے علاوہ بھی چارج شیٹ کافی طویل تھی۔
مگر وہ ایک عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہو گئے اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن ندیم ملک نے نجی ٹی وی چینل کے اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری پر کئی سو ارب روپے کا کیس تھا کہ یوکے میں انہوں نے منی لانڈرنگ کی تھی مگر ان کے کیس سے کچھ بھی نہیں نکلااور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تو اس بات کا جواب حکومت کو دینا چاہیے کہ وہ جیل سے باہر کیسے آئے۔
ندیم ملک نے کہا کہ اس بات کا جواب شہزاد اکبر کو دینا چاہیے اگر وہ ایماندار آدمی ہیں تو پھر وہ بتائیں کہ یہ کیسے ہوا۔اگر آج حکومت نہیں بتائے کی تو آنے والی حکومت پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انہی کیسز میں بنائیں گی اور عوام بھی پی ٹی آئی سے پوچھیں گے کہ ملک کے باہر پڑے پیسے کہاں گئے اور انہیں ملک میں واپس کیوں نہیں لایا جا سکا۔ان کا کہنا تھا کہ ان سوالوں کے جواب پر پی ٹی آئی حکومت کو عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ احتساب کہاں تک پہنچااور ملک سے باہر پڑے پیسوں کا کیا ہوا؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.