کوئی ن لیگ اور ش لیگ نہیں بن رہی،پی ڈی ایم اجلاس میں مریم نواز اور شہباز شریف دونوں جائیں گے

شہباز شریف ن لیگ کے صدر ہیں اور اور وہ پارٹی کو متحد کر کے آگے لے جائیں گے،رانا ثناء اللہ
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 24 اپریل 2021ء ) بالآخر شہباز شریف بھی رہا ہو گئے جس طرح سے دیگر ن لیگ اور پی پی پی راہنما ایک ایک کر کے جیل سے باہر آئے ہیں ویسے اب شہباز شریف بھی باہر آ گئے ہیں۔حالانکہ شہباز شریف کی ضمانت کی خبر بہت پہلے آئی تھی مگر اس وقت اپوزیشن لیڈر کی جگہ حمزہ شہباز کی ضمانت ہو گئی تھی جبکہ دو دن پہلے بھی جب شہباز شریف کی ضمانت ہونے لگی تو دورکنی بینچ میں سے ایک جج صاحب نے ضمانت روک لی تھی جس کے بعد ریفری جج کے پاس کیس گیاتھااور گزشتہ سے پیوستہ دن انہوں نے بھی ضمانت منظور کر لی اور گزشتہ روز انہیں کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔
جس کے بعد ن لیگ کے ورکرز اور کارکنان خوشی سے بغلیں بجاتے نظر آرہے ہیں۔اس موقع پر رانا ثنا ء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ن لیگ کے لیے مسرت کا دن ہے کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف جیل سے رہا ہو گئے اور حکمرانوں کی ہار ہو گئی۔
رانا ثناء اللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اب ن لیگ کی باگ ڈور شہباز شریف صاحب سنبھالیں گے اور مریم بھی ان کے ساتھ ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی ضمانت ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے لی ہے اور ان کی رہائی ان کے بے گناہ ہونے کا بھی پروانہ ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے شہباز شریف اور دیگر قائدین کے خلاف کیسز بنائے۔جب ان سے سوال کیا گیاکہ پی ڈی ایم کے مشترکہ اجلاسوں میں مریم نواز ن لیگ کی نمائندگی کرے گی یا پھر صدر کی حیثیت سے شہباز شریف جائیں گے تو ا س پر ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور شہباز شریف دونوں اجلاس میں جائیں گے اور مل کر ن لیگ کی نمائندگی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ن لیگ اور ش لیگ نہیں بن رہی بلکہ یہ ایک ہی ہے اور وہ مسلم لیگ نواز ہے اور شہباز شریف صدر مسلم لیگ ن کی حیثیت سے دفتر سنبھالیں گے اور پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت بھی کریں گے اور مریم نواز بھی ان کے ساتھ ہو گی۔انہوں نے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے صدر مسلم لیگ ن کو کافی عرصہ بے گناہ جیل میں رکھااور آخر میں وہ باہر آ ہی گئے۔ان حکمرانوں کو انتقام کی سیاست سے اب گریز کرنا چاہیے اور اپوزیشن کو برداشت کرناچاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.