پارلیمنٹ کا جیسا ماحول بن گیا، ابھی تو وہاں جوتے چلنے ہیں،رانا ثناء اللہ

ہمارے ساتھ جس طرح ظلم وزیادتی کررہے تو کیا ہم صرف سیاسی احتجاج تک محدود رہیں گے؟شاہد خاقان عباسی سے معافی کا مطالبہ کیا، تو پھر اسپیکر اور وزیراعظم کو پوری قوم اور پارلیمنٹ سے سوسوبار معافی مانگنی چاہیے۔مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر کی گفتگو
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 اپریل2021ء) پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا جیسا ماحول بن گیا، وہاں ابھی جوتے چلنے ہیں، شاہد خاقان عباسی سے معافی کا مطالبہ کیا، تو پھر اسپیکر اور وزیراعظم کو پوری قوم اور پارلیمنٹ سے سوسوبار معافی مانگنی چاہیے،جو اسپیکر پارلیمانی ارکان کا تحفظ نہیں کرسکا، وہ عہدے کا اہل نہیں۔
انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمانی روایات کے برعکس کوئی عمل ہوا ہے اور اس پر معافی کا تقاضا کیا گیا ہے تو پھر اسپیکر اور قائد ایوان کو بھی پوری قوم اور پارلیمان سے معافی مانگنی چاہیے، انہوں نے جس طرح پارلیمنٹ کی توہین اور بے توقیری کی ہے اس کے بعد پھر انہیں اس طرح معافی کا نہیں مطالبہ کرنا چاہیے۔
وہاں ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس کے بعد یہ معاملہ ہوا، اسپیکر نے اپنا حق پچھلے ڈھائی سالوں میں ادا ہی نہیں کیا، وہ پارلیمانی ارکان کا تحفظ نہیں کرسکا، میں نے اپنے ایک کیس میں ان کو تحریک دی تھی، کندھوں پر ہاتھ پھیر کر کہتا مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ہے، پھر دیکھیں وہ اس عہدے کا اہل ہے؟میں سمجھتا ہوں پارلیمنٹ میں جس طرح کا ماحول ہے وہاں ایک چیز کو الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا، آپ ایک جوتا مارنے کی بات کررہے ہیں ، وہاں پارلیمنٹ میں جوتے چلنے ہیں، ہمارے ساتھ جو ظلم اور زیادتی کررہے ہیں، کل کو ہم سیاسی احتجاج تک محدود رہیں گے، یہ جس طرح آگ سے کھیل رہے ہیں، یہ اس ملک کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑ رہے ہیں، ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے۔

اس موقع پرتحریک انصاف کے رہنماء وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ تحریک انصاف نے اسمبلی میں بہت احتجاج کیے، لیکن کبھی اسپیکر ایازصادق کو گالی نہیں دی، کبھی نہیں کہا جوتا ماریں گے ، مجھے لگتا ہے ان کے اوسان خطا ہوگئے ہیں، کل شاہد خاقان عباسی کا ردعمل معمول کا نہیں تھا۔اس موقع پرسینیٹر مولانا بخش چانڈیو نے کہا کہ اسپیکر سے معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن رانا ثناء اللہ کی بات بھی درست ہے، ہمارے بھی اسپیکر رہے ہیں، کبھی کسی نے رویہ نہیں اپنایا، موجودہ اسپیکر ہٹلر بن کر بیٹھے ہیں، وزیراعظم کو بھی اپنا رویہ درست کرنا چاہیے، گالیاں، مذاق کرنے والا رویہ درست نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.