حکومت نے مذاکرات ہی کرنا تھے تو ٹی ایل پی کو کالعدم قرار کیوں دیا ؟

لاہور واقعہ کے حقائق عوام کے سامنے نہیں آسکے، کسی نے اس حوالے سے بات نہیں کی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 اپریل 2021ء) : حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مابین مذاکرات کامیاب ہو گئے ، اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر مذاکرات ہی کرنا تھے تو حکومت نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار کیوں دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لاہور واقعہ کے حقائق عوام کے سامنے نہ آسکے جبکہ وزرا اور مشیروں کا ٹولہ آج خاموش ہیں اور وزیر اعظم نے بھی لاہور واقعے پر کوئی بات نہیں کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو آج پھر ایوان میں بلایا گیا ہے، وزیر اعظم میں ہمت تھی تو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے۔ گزشتہ روز پارلیمنٹ چل رہی تھی کہ یکایک اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ ایک دم قومی اسمبلی کی دو دن کی چھٹی کر دی گئی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں ہر سڑک پر کنٹینر لگے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت میں کنٹینر رکھنے کا مقصد کیا ہے؟ حکومتی لوگ آخر کس بات پر خوفزدہ ہیں۔

جماعتوں کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور پھر مذاکرات کی بات آ جاتی ہے۔ فیض آباد دھرنے کے حقائق تلخ ہیں ماضی سے سبق لینا چاہئیے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اگر ٹروتھ کمیشن بنا دے تو حقائق آپ کے سامنے آجائیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مظاہرین کہہ رہے ہیں سفیر کو نکالنے کا وعدہ کیا گیا تھا، یہ کس نے کیا ؟ وزیر اعظم کا بیان قومی اسمبلی میں ہونا چاہئیے تھا، ناموس رسالت ﷺ پر کوئی دو رائے نہیں پائی جاتی۔
شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہر پاکستانی سوال کر رہا ہے کہ ملک میں انتشار کیوں ہے۔ جس کی ذمہ داری ہے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے اور 22 اپریل کو ہونے والا اجلاس اب آج ہو گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد اعلان کیا تھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالنے کے حوالے سے قرارداد آج پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.