کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کو گرفتار کرنے کی وجہ سامنے آ گئی

سعد رضوی کی گرفتاری اور حکومت کے کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کی اہم تفصیلات منظر عام پر آ گئیں
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 اپریل 2021ء) : حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کو گرفتار کیا جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ان مظاہروں میں ملکی املاک کو نقصان بھی پہنچا۔ تاہم اب سعد رضوی کی گرفتاری اور حکومت کے کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک لبیک سے حکومت کی سات نشستیں ہو چکی ہیں، کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات میں وفاقی وزیر اعجاز شاہ بھی شامل رہے، صرف 3 ماہ میں 4 مرتبہ کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ وزیراعظم کی مذاکراتی ٹیم نے ملاقاتیں کیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ سے مذاکرات میں وزیر مذہبی امور ،وزیر داخلہ اور ریاستی ادارے شامل رہے ، ٹی ایل پی فرانسیسی سفیر پر بضد رہی اور 20 اپریل کو احتجاج کی کال دے دی، 20 اپریل کے ہنگاموں سے ملک کو بچانے کے لئےریاست نے سعد رضوی کو گرفتار کیا۔
یاد رہے کہ صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں علماء کے وفد نے سعد رضوی سے جیل میں ملاقات کی تھی۔

ذرائع کے مطابق علماء کے وفد نے سعد رضوی سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی جبکہ علمائے کرام کا کہنا تھاکہ انتشار اور جلاؤ گھیراؤ سے اپنے ہی ملک کا نقصان ہوا لہٰذا ملک میں امن و امان کی فضا کو قائم رکھا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ ‎علماء نے سعد رضوی کو ویڈیو پیغام جاری کرنے کا کہا جس میں مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی جائے۔
علمائے کرام نے سعد رضوی سے اپیل کی کہ ‎لاہور کا دھرنا ختم کیا جائے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ سعدرضوی اور علماء کے وفد کے درمیان 5 گھنٹے مذاکرات ہوئے جبکہ مذاکراتی ٹیم نے افطاری بھی سعد رضوی کے ساتھ جیل میں کی۔ جبکہ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے منگل کی علی الصباح ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.