پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے ٹی ایل پی کے کتنے قائدین کو رہا کیا گیا؟ مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) کالعدم تحریک لبیک اور پنجاب حکومت میں مذاکرات کی کہانی سامنے آ گئی ہے۔نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں گذشتہ روز پنجاب حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے مابین ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی سربراہی میں حکومتی وفد

نے ٹی ایل پی وفد سے بابو صابو کے قریب ملاقات کی۔پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے کالعدم تحریک کے دو سے زائد قائدین کو رہا کیا گیا۔کالعدم تحریک لبیک کے وفد کی جانب سے ایک بار پھر سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ پیش کیا گیا۔۔جبکہ پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا،ٹی ایل پی کی جانب سے سعد رضوی کی رہائی کا بھی مطالبہ پیش کیا گیا۔مقدمے کے خاتمے اور کارکنوں کی رہائی کے مطالبات بھی پیش کیے گئے۔

مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے :علاوہ ازیں سینئیر صحافی نعیم اشرف بٹ نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کی کمیٹی سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر قانون راجہ بشارت نے مذاکرات کیے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات نیوٹرل جگہ پر کیے گئے۔ پہلے دور میں سیز فائر پر اتفاق ہوا۔ جس کے بعد اب لانگ مارچ اورکارکنوں کی رہائی پر بات ہو گی۔ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں دہشت گردی کے مقدمات والوں پر نہیں صرف ایم پی او کے تحت حراست میں لیے کارکنوں پرمذاکرات ہوں گے جبکہ حکومتی کمیٹی لانگ مارچ کی منسوخی پر زور دے رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کو دوسرا دور شام کو ہو گا۔ ذرائع کے مطابق دونوں حکومتی نمائندے مذاکرات کی کامیابی کے لیے کافی پُر اُمید ہیں کیونکہ مذاکرات کا پہلا دور بھی تین سے چار گھنٹے کا ہوا تھا جس میں کافی چیزیں طے کر لی گئی تھیں۔ پہلے دور میں سیز فائر کے تحت دونوں طرف سے سیز فائز پر عمل کیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.