تحریک لبیک اور حکومت کا مقصد ایک لیکن طریقہ کار مختلف ہے، وزیراعظم کا قوم سے خطاب

50 مسلم ممالک سے کسی بھی ملک نے فرانس کے سفیر کے نکلنے کی بات نہیں کی،فرانس سے تعلق توڑنا یورپی یونین سے تعلق توڑنا ہے،فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا تو کوئی دوسرا یورپی ملک ایسا ہی کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19 اپریل2021ء) وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے افسوسناک حالات ہوئے جس کے بعد میں نے عوام کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا۔اس ملک میں لوگ چاہے دین پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن نبی پاک ﷺ لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔
اس لئے کبھی بھی ان کی شان میں کہیں بھی گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔یہ تکلیف صرف ہمیں نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں بسنے والے ہر مسلمان کو ہوتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک لبیک والے جس مقصد کے لیے باہر نکلے ہیں میرا بھی وہی مقصد ہے۔ہم بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔
ہمارا مقصد ایک ہے صرف حکومت اور ٹی ایل پی کا طریقہ کار مختلف ہے۔

ٹی ایل پی کہہ رہی ہے کہ فرانس سے رابطہ ختم کیے جائیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں آپ کی شان میں گستاخی کی۔۔ پاکستانی عوام سڑکوں پر نکلی، شہادتیں بھی ہوئیں۔ مغرب میں کچھ عرصے بعد یہ سلسلہ پھر شروع ہو جاتا ہے، اور احتجاج بھی ہوتے ہیں لیکن کیا اس سے فرق پڑے گا؟. وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیج دینے اور فرانس کے تعلقات ختم کرنے سے یہ سلسلہ رک جائے گا۔
میں مغرب کو جانتا ہوں وہ بار بار اظہار رائے کے نام پر یہی کریں گے۔50 مسلم ممالک سے کسی بھی ملک نے فرانس کے سفیر کے نکلنے کی بات نہیں کی۔فرانس کے سفیر کو نکالنے سے پاکستان کو فرق پڑے گا۔بہت عرصے بعد معیشت درست سمت میں گامزن ہوئی۔آدھے سے زیادہ یورپی ممالک میں کاٹن ایکسپورٹ کرتے ہیں۔کاٹن کی ایکسپورٹ ہماری معیشت کا اہم حصہ ہے۔فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا تو کوئی دوسرا یورپی ملک ایسا ہی کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس سے تعلق توڑنا یورپی یونین سے تعلق توڑنا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.