تحریک لبیک کے خلاف کارروائی، وزیراعظم عمران خان پر دباؤ بڑھنے لگا

حکومت تشدد کے راستے کو ترک کرے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے،تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا بیان
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19 اپریل2021ء) نائب امیر جماعت اسلامی اور سیکریٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات بگڑ رہے ہیں، حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان نے قوم کو مکمل طور پر مایوس کیا ہے۔
قومی معاملات کو ترجیحات کے مطابق حل کرنا حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تشدد کے راستے کو ترک کرے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کرنا ہر پارٹی کا حق ہے۔ تاجروں نے علما کی اپیل پرشٹرڈاؤن کیا ہے۔
یہ عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے۔واضح رہے کہ تاجر تنظیموں نے علماء کرام کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی، لاہور اور گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں کی تاجر تنظیموں نے علماء کرام کی جانب سے آج ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔آل کراچی تاجر اتحاد، کراچی تاجر الائنس، کراچی تاجر الائنس، بینکویٹ ہال اسوسی ایشن اور انجمن تاجران سندھ نے اپنے بیانات میں مفتی منیب الرحمان کی کال پر پہیہ جام ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
بیانات میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل اور تجارتی مراکز ،مارکیٹیں اور ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کراچی میں پیٹرول اور سی این این جی اسٹیشنز بند کر دیے ہیں۔ جبکہ لاہور میں آل پاکستان انجمن تاجران اور گوجرانوالہ میں مرکزی انجمن تاجران نے بھی علماءکرام کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سندھ بار کونسل کی جانب سے لاہور میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کی گئی ہے اور وکلاء کی ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.