جہانگیرترین کے حامی ارکان کے پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطے کرانے والی شخصیت سامنے آ گئی

پیپلز پارٹی جہانگیرترین کے حامی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہے،بلاول بھٹو بھی جلد رابطہ کریں گے،رابطہ ایسی شخصیات نے کرایا جو ماضی میں پیپلز پارٹی میں اہم حیثیت رکھتی تھی جبکہ اب پی ٹی آئی میں ہے
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 18 اپریل 2021) پاکستان پیپلز پارٹی جہانگیرترین کے حامی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ عید کے بعد بلاول بھٹو زرداری کے براہ راست رابطے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کے حامی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بالواسطہ رابطے میں تھی۔ان ارکان کی اکثریت مختلف حوالوں سے حکمران جماعت سے ناراض بھی تھی ۔
رابطہ ایسی شخصیات نے کرایا جو ماضی میں پیپلز پارٹی میں اہم حیثیت رکھتی تھی جبکہ اب پی ٹی آئی میں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کے لاہور میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے بعد امکان ہے کہ جہانگیر ترین سمیت ان کے حامی ممبران پارلیمنٹ سے بھی رابطہ کریں گے۔دوسری جانب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جہانگیر ترین اپنی پاور شو کریں گے ، ہم خیال اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی بجٹ اجلاس کے دوران کسی اہم دن اجلاس سے غیر حاضر بھی ہو سکتے ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین کو اس وقت تک پنجاب کے 25 صوبائی اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور یہ تمام ایم پی ایز جہانگیر ترین کے لئے اسمبلی سے استعفے دینے کو بھی تیار ہیں اور حکومت مخالف بینچز پر بیٹھنے پر بھی راضی ہیں ، اس ضمن میں حکومتی لابی کے بیانات کے بعد ہم خیال گروپ کے اراکین اسمبلی نے بھی جہانگیر ترین پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے کہ وہ اپنے لائحہ عمل کو واضح کریں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا بروقت فیصلہ کر سکیں۔
بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے جہانگیر ترین کی جانب سے 21 اپریل کو دی جانے والی افطاری کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوں ، حکومت مخالف گروپ میں جائیں یا پھر پریشر گروپ بنا کر حکومت کو مشکلات سے دوچار کیا جائے ، اس سلسلے میں بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی بھی تجویز پیش کی جائے گی کیوں کہ پنجاب حکومت کے لئے اتنی بڑی تعداد میں اپنے حامی اراکین اسمبلی کی حمایت کھو دینے کے بعد بجٹ پاس کروانا ناممکن ہوگا ،

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.