شب برأت رحمتوں کی برسات

شب برأت رحمتوں کی برسات ، مغفرتوں کی سوغات ، اللہ تعالیٰ کی رضا کیسے حاصل کی جائے ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہا کہ شب برأت رحمتوں کی برسات، مغفرتوں کی سوغات ہے،امت مسلمہ عبادات،مناجات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرسکتی ہے،ماہِ شعبانِ المعظم کی 15ویں شب کوجس شبِ برا ت بھی کہاجاتاہے اِس شب کو رب ِکائنات اللہ رب العزت اپنے فضل وکرم اور رحمت کے سبب بے شمار گناہ گاربندوں کی مغفرت فرماتاہے، اللہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بندوں کو گناہوں سے بری کرتے ہیں، اسی لئے اس کو شب برآت کہا جاتا ہے، ایک حدیث میں آیا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ قبیلہ بنوکلب کی بھیڑ بکریوں کے بال کے برابر لوگوں کی مغفرت کرتا ہے۔ جامعہ نعیمیہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےعلامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاکہ شب برآت کی خصوصیت یہ ہے کہ اِس رات میں اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو اپنی خصوصی رحمت سے نوازتاہے، اِس رات ہر امر کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ رات بڑی مبارک اور اہم ہے،اِس رات میں خالقِ کائنات اللہ رب العزت مخلوق میں تقسیم رزق فرماتے ہیں اور سال بھر میں ہونے والے واقعات و حوادث کو لکھ دیا جاتاہے اور پورے سال میں انسانوں سے سرزد ہونے والے اعمال اور پیش آنے والے واقعات سے بھی اپنے فرشتوں کو باخبر کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حدیث پاک میں آتاہے کہ’جب شعبان کی درمیانی رات آئے تو رات کو جاگتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے اور نوافل میں مشغول رہا جائے، روزہ رکھا جائے کیونکہ اس رات اللہ اپنی صفات رحمن و رحیم اور رؤف کیساتھ انسانیت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور خدا کا منادی پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کا سوال پورا کر دوں؟ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے حلال اوروافر رزق عطا کر دوں؟ اور یہ صدائیں صبح صادق تک جاری رہتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.