سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد یوسف رضا گیلانی کا موقف سامنے آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و نو منتخب اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بہت سی جماعتوں نے ہم سے رابطہ کرکے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بننا پیپلز پارٹی کا حق ہے، میرا اپوزیشن لیڈر بن جانا میری نہیں ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی فتح ہے۔

زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی سے سینیٹ سیٹ پر میں امیدوار ہوں گا، ہم نے سب کے ساتھ مل کر اس پر کامیابی حاصل کی، ہمارا موقف تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار ادا کریں گے، جلسے، ریلیز اور احتجاج مل کر کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے سامنے پی ڈی ایم کا مطالبہ رکھا گیا کہ اسمبلیوں سے استعفے دیا جائیں، پی ڈی ایم نے ہماری تجویز مان کر سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں حصہ لیا، پی ڈی ایم نے ضمنی انتخابات جیت لیے، بلاول بھٹو کی تجویز تھی کہ عدم اعتماد لائی جائے، استعفوں کو آخری آپشن رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کہا کرتی تھیں 1985ء کے انتخاب کا بائیکاٹ ہماری بڑی غلطی تھی، مشرف دور میں وطن واپس آکر بھی محترمہ نے نواز شریف کو تیار کیا کہ انتخابات میں حصہ لیں گے جبکہ محترمہ شہادت کے بعد نواز شریف نے ایک بار پھر الیکشن کے بائیکاٹ کی بات کی تاہم آصف زرداری نے انہیں الیکشن میں حصہ لینے پر قائل کیا اور محترمہ 17 ممبران کے ساتھ اسمبلی میں موجود رہیں۔

گیلانی نے کہا کہ ہم سے پی ڈی ایم سربراہ اجلاس میں دھرنے کا کہا گیا جس کی ہم نے مکمل تیاری کی، جب دھرنے سے پہلے سربراہ اجلاس ہوا جس میں آصف زرداری اور نواز شریف بھی بولے، وہاں کہا گیا کہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ اور دھرنے بے معنی ہیں جو ہمارے لیے نئی بات تھی، ہم نے پی ڈی ایم اجلاس میں درخواست کی کہ استعفے نہ دئیے جائیں، جمہوریت میں اختلاف رائے چلتا ہے تاہم مولانا فضل الرحمن یہ کہہ کر چلے گئے کہ دس میں سے نو جماعتیں متفق ہیں، ہمیں پی ڈی ایم نے وقت دیا کہ اپنی مجلس عاملہ میں جا کر فیصلہ کریں، ہماری مجلس عاملہ میں اس بارے غور ہوگا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کے معاملے پر آصف علی زرداری نے نواز شریف، فضل الرحمن سمیت سب سے رابطہ کیا، بہت سی جماعتوں نے ہم سے رابطہ کرکے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا حق ہے، فاٹا کے آزاد ارکان نے بھی ہماری سپورٹ کی، سینیٹر دلاور جن کا ن لیگ سے کافی تعلق تھا انہوں نے چار آزاد ارکان کا گروپ بنایا، اس آزاد گروپ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہمارے30 ووٹ بن گئے، اس طرح سے میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی چیئرمین سینیٹ بن چکا تھا جو کیس اب عدالتوں میں ہے، اب میں لیڈر آف اپوزیشن بن چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے آصف علی زرداری سے رابطہ کیا اور کہا کہ کسی قسم کا بیان اب نہیں آئے گا لیکن آج مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما کی جانب سے بیان آیا ہے کہ یہ سرکاری اپوزیشن ہے، ماضی میں لوگ مجھے (ن) لیگ کا وزیر اعظم کہتے تھے، میں پاکستان کی تاریخ کا واحد اتفاق رائے سے بننے والا وزیراعظم تھا۔

یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم قائم رہے، پی ڈی ایم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اکٹھے ہیں، میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلوں گا، پی ڈی ایم کے لوگوں سے ملتا رہوں گا، میرا اپوزیشن لیڈر بننا پی ڈی ایم کی فتح ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.