بلاول بھٹو کا اسلام آبادہائیکورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیخلاف اسلام آبادہائیکورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان کردیا۔اپوزیشن لیڈر شپ ہمارا حق ہے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ،ن لیگ کا اپوزیشن لیڈر کا امیدواربہت ہی متنازع تھا،میں کیسے اپنے ارکان کو کہوں گاکہ یوسف رضاگیلانی کو ووٹ نہ دیں

بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اے این پی اور جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کرناچاہتا ہوں، چیئرمین سینیٹ الیکشن کے خلاف ہماری جدوجہد جاری ہے،ان کاکہناتھا کہ پولنگ ڈے پر سینیٹ ہاﺅس کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کیاگیا،پارلیمنٹ کی بالادستی پیپلزپارٹی زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ،آراو نے غلط فیصلہ دے کر یوسف رضاگیلانی کا حق چھیننا،جب عدالت میرٹ پر کیس سنے گی تو ہماری جیت ہو گی ۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ الیکشن میں پریزائیڈنگ نے غلط فیصلہ دیا،چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کیخلاف اسلام آبادہائیکورٹ کے فیصلے پرنظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیاہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ سٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس غیرقانونی ہے،یہ آرڈیننس پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے ،ہم چاہتے ہیں سٹیٹ بینک اپنی مختاری کے ساتھ فیصلے کرے ،ہم اس آرڈیننس کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے ،ہم سٹیٹ بینک کے خلاف سازش کا مقابلہ کرینگے ۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ کل ایک معاون خصوصی کو قربانی کا بکرابنایاگیا،صرف ایک معاون خصوصی کی قربانی سے کچھ نہیں ہوگا،ندیم بابر سمیت کابینہ میں بیٹھنے والے دیگر ارکان کو بھی نکالا جائے،فیصلہ کابینہ نے کیا ان سب کو مستعفی ہونا چاہئے ،بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جب دنیا میں پٹرول سستا مل رہاتھاہمارے ملک میں بحران تھا،تیل بحران پیدا کرکے چندشخصیات کو فائدہ پہنچایا گیا،تیل بحران سے عوام کوتاریخی نقصان پہنچایا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جب سے یہ کٹھ پتلی حکومت آئی اس اپوزیشن سے کوئی نقصان نہیں ملا،پی ڈی ایم نے ملکروزیراعظم کو گھر میں شکست دلوائی ،ایک مشکل لڑائی کے بعد یوسف رضا گیلانی کو جتوایا،یوسف رضا گیلانی کو پوری پی ڈی ایم کی سپورٹ کے ساتھ منتخب کیا۔ ان کاکہناتھا کہ ہم حکومت کو للکارتے رہیں گے ،پی پی نے شروع دن سے پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کی تنقید کی ۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ 21 سینیٹرز ہمارے ہیں، اپوزیشن لیڈر کا حق ہمارا ہے ،اپوزیشن لیڈر شپ ہمارا حق ہے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ،ن لیگ کا اپوزیشن لیڈر کا امیدواربہت ہی متنازع تھا،میں کیسے اپنے ارکان کو کہوں گاکہ یوسف رضاگیلانی کو ووٹ نہ دیں ۔

ان کاکہناتھا کہ پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ہوں ،اپوزیشن متحد رہے گی تو عمران کو نقصان پہنچا سکے گی،انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈکا لفظ میں نے دیا جانتا ہوں کس پر استعمال ہو سکتا ہے کس کیلئے نہیں ،میں سمجھتا ہوں اپوزیشن کاکوئی نقصان ہیں ہوا،بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جن کی اپوزیشن لیڈر بننے کی خواہش تھی ہم ان کے ساتھ مل کرملکر بھی کام کریں گے ،میراموقف ہے کہ پارلیمنٹ میں مقابلہ کرکے ان کو شکست دلواسکتے ہیں ،شکست دلوانے کی بات کوئی نہیں مان رہا تھا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ محسوس ہواپیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ،اداروں کے ذریعے جمہوری جدوجہد ہمارا حق ہے ،ہماری کوشش ہے پارلیمنٹ کے اندراورباہرحکومت کو ٹف ٹائم دیں ،برابری سے اتحادچلانے کی کوشش کریں تو پی ڈی ایم برقرا رہے گی ،اس معاملے میں ڈکٹیشن سے کام نہیں چل سکتا،گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی بات کسی سے نہیں چھپائی عدم اعتماد کی بات ہے تو یہ چھپی بات نہیں ۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ میں ن لیگ والوں کو کہوں گاٹھنڈا پانی پیئں لمبے لمبے سانس لیں ،پارلیمان میں حکومت کو شکست دینا پی ڈی ایم کی کامیابی ہے،پارلیمان سے شکست دلوانے والاآپشن درست ثابت ہوا ،انہوں نے کہاکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا حق ن لیگ کا بنتا ہے ،بزدار کے ایک بجٹ کو چیلنج نہیں کیاگیا،پنجاب میں وزیراعلیٰ کا حق ن لیگ کا ہے ۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ مشکل وقت میں مریم پر کبھی تنقید نہیں کی اورنہ ہی کرونگا،میں نے پارلیمان میں مریم کیلئے پہلے آواز اٹھائی تھی ،پارٹی رہنماﺅں کو ہدایت دی تھی کہ مریم کی نیب پیشی کے وقت ساتھ جائیں ،ان کاکہناتھا کہ ن لیگ غور کرے انکار اتحاد ی کون ہے اورکون انہیں مشورے دے رہا ہے ۔ان کاکہناتھا کہ غیرمناسب الزام لگانا ہمارے تعلقات میں اضافہ نہیں کرے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.