سید یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے پر مریم نواز نے خاموشی توڑ دی، پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنا دیا

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )مریم نوازشریف نے سید یوف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا نہایت افسوس ہے کہ اندازہوہنے کے باجود آپ نے چھوٹے سے عہدے کیلئے جمہوریت ، عوام کے حق حکمرانی کی جدوجہد کو بہت بڑا نقصان پہنچایاہے،اگر آپ نوازشریف سے بات کرتے تو آپ کو یہ بھی دیدیتے،گر آپ نے تابیداری کرنے ہے اور سلیکٹ ہوناہے تو پھر آپ کو عمران خان کی پیروی کرنی چاہیے ۔

مریم نوازشریف نے سید یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے معاملے پر موقف جاری کرتے ہوئے کہا کہ میری کوشش یہی ہے کہ پہلے پی ڈی ایم کا اور خصوصی طور پر مولانا فضل الرحمان کا اس پر موقف سامنے آئے ، اس بات کا نہایت افسوس ہے کہ اندازہوہنے کے باجود آپ نے چھوٹے سے عہدے کیلئے جمہوریت ، عوام کے حق حکمرانی کی جدوجہد کو بہت بڑا نقصان پہنچایاہے ، میں سمجھتی ہوں کہ آپ کو سب سے زیادہ نقصان خود پہنچا ہے ، عوام دیکھ رہی ہے کون کس کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جدوجہد کر رہاہے ، یہ پی ڈی ایم کی شکست نہیں ہے ، یہ ان لوگوں کی شکست ہے جنہوں نے چھوٹے سے عہدے کیلئے اپنے اصولوں کی قربانی دی ، ، یہ چھوٹا سا وقتی فائدہ ہے ، آپ نے چھوٹے سے فائدے کیلئے باپ پارٹی سے ووٹ لے لیا، آپ کو یہ عہدہ چاہیے تھا تو آپ نوازشریف سے مانگ لیتے ،یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنانے کیلئے اگر وہ آپ کو اپنی جماعت کے 83 کے 83 ووٹ دے سکتے ہیں ، جب آپ چیئرمین سینیٹ کیلئے کھڑے تھے تو وہ آپ کو اپنے تمام سینیٹرز کے ووٹ دے سکتے ہیں تو اگر آپ نوازشریف سے بات کرتے تو آپ کو یہ بھی دیدیتے۔

مریم نواز کا کہناتھا کہ پاکستان کی 73 کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ لیڈر آف دی اپوزیشن کو حکومتی ارکان سلیکٹ کر رہے ہیں ، لیڈر آف اپوزیشن کیلئے اپوزیشن ووٹ کرتی ہے ، کاغذات جمع کرواتی ہے ، اپوزیشن تو ن لیگ ہے ، جے یو آئی ایف اور دیگر جماعتیں ہیں جنہوں نے ن لیگ کیلئے ووٹ کیا ، پہلی بار دیکھاہے کہ لیڈر آف اپوزیشن حکومتی اراکین سے مل کر بن رہاہے ، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو سمجھ نہیں آ رہا اور یہ کہہ دیں گے وہ آزاد سینیٹر ہیں تو آپ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ، عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ، ، اگر آپ نے تابیداری کرنے ہے اور سلیکٹ ہوناہے تو پھر آپ کو عمران خان کی پیروی کرنی چاہیے ، جو بہت ڈھٹائی سے تابیداری کرتاہے ، آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ، کبھی اپوزیشن کبھی حکومت ، یہ نہیں ہو سکتا ہے ، کھل کر تسلیم کرنا چاہیے کہ آپ نے باپ پارٹی سے ووٹ لیے ہیں ، جب آپ کو اپنی عوامی قوت پر یقین نہیں ہوتا ، جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سوائے سلیکٹ ہونے کے آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی عوامی قوت کھو چکے ہیں ،خوشی ہے کہ لکیر کھینچی گئی اور صف بندی ہوگئی ہے ، آپ اب لاکھ کہیں کہ آزاد سینیٹر ہیں ، ایسا نہیں ہواہے ، آپ کو باپ پارٹی کے لوگوں نے ووٹ دیاہے ، یہ آپ کو تسلیم کرنا چاہیے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.