نیب میں پیشی ملتوی ہونے کے بعد مریم نواز کا ردعمل بھی سامنے آگیا، نیب اور حکومت کو کھری کھری سنادیں

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ میں اب نیب کے لیے آسان شکار نہیں بنوں گی، جتنا انتقام لیا جانا تھا لیا جاچکا، ظلم کی ایک حد ہوتی ہے،ظلم کے مٹنے کے دن آچکے ہیں،ڈیڑھ سال بعد ایک پرانے کیس کو کھولنے کی کیا ضرورت پڑگئی ہے؟اداروں کے خلاف بیان بازی کا چوکیدار نیب کو کس نے بنایا ہے؟

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ قانون کی ہم سے زیادہ پاسداری کوئی نہیں کرسکتا۔نیب سیاسی انجینرنگ کا ادارہ ہے جو عمران خان کے نام پر کام کرتا ہے اور عمران خان کے مخالفین کے خلاف کام کرتا ہے۔عوام اب اس کھیل کو سمجھ چکی ہے، میں عوام کی شکر گزار ہوں،عوام کی وجہ سے نیب کو پیچھے ہٹنا پڑا۔میں خصوصی طور پر مولانا فضل الرحمن کی شکر گزارہوں،نیب کو بتانا چاہتی ہوں کہ ان کے چہرے عوام نے پہچان لیے ہیں۔ عمران خان مشکل میں ہوتا ہے تو یہ اس کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ جس بھی کیس میں مجھے بلایا گیا اس کیس میں 48 دن میں نیب میں رہ چکی ہوں،جو سلوک وہاں ہوا اس کو بھی قوم کےسامنے لاؤں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن پارٹیز کا شکریہ ادا کرتی ہوں، اگر کورونا کی وجہ سے پیشی ملتوی کی ہے تو عمران خان کے خلاف بھی کریک ڈاون کرنا چاہیے،کورونا کے باوجود انہوں نے آج میٹنگ کی اور لوگوں سے ملیں۔

سپریم کورٹ کے ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے فیصلے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈسکہ الیکشن میں تاخیر پر وہ خوشیاں منارہے ہیں جن کو رسوائی کا ڈر ہے۔رسوائی کے ڈر سے ان کو ڈسکہ الیکشن میں فائرنگ کرنی پڑی اور الیکشن عملے کو اٹھا کر بھاگنا پڑا۔ جہاں جہاں ووٹ کی بات آئے گی وہاں سے سلیکٹڈ بھاگتا ہوا نظر آئے گا۔یہ سپریم کورٹ کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں۔ڈسکہ کو میدان جنگ بنا گیا اور ووٹرز کو ڈرایا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.