پنجاب پولیس میں کروڑوں روپے لیکر جعلی بھرتیوں کا سکینڈل، مرکزی ملزم کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب پولیس میں رشوت لیکر اہلکاروں کی بھرتی سکینڈل کے مرکزی ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ کانسٹیبل کی بھرتی کا ریٹ چار لاکھ روپے تھا،امیدواروں کو پیپر خالی چھوڑنے کا کہا جاتا جو بعد میں فل کیا جاتا تھا۔

سٹی 42 کے مطابق اینٹی کرپشن نے اہلکاروں کی بھرتی کے لیے امتحان لینے والے اداے سی ٹی ایس کے آپریشنل منیجر امجد جاوید سے سات لاکھوں روپے کی ریکوری کرلی ہے۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ جھنگ اور چنیوٹ میں پولیس میں نوکری کے خواہش مندوں سے کروڑوں روپے بٹورے گئے، اوسط تین سے چار لاکھ روپے میں کانسٹیبل کے پیپر کی بُکنگ ہوتی رہی، چنیوٹ میں پچاس سے زائد امیدواروں سے رقوم بٹوریں۔

ملزم نے اپنے فرنٹ مین اصغر نامی شخص کے ذریعہ ساری ڈیلنگ کرتا تھا۔ ملزم امجد جاوید پنجاب بھر میں کانسٹیبل، لیڈی کانسٹیبل اور ڈرائیورز کی بھرتی کا انچارج تھا۔ تحریری امتحان کے دو دن بعد پیسے دینے والے امیدواران کے پرچے دوبارہ حل کیے گئے، امیدواران کو پرچہ خالی چھوڑنے کا کہتے اور بعد میں مکمل کروا لیتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.