این اے 75 ڈسکہ، تحریک انصاف کے وکیل کی الیکشن کمیشن کافیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے وکیل کی الیکشن کمیشن کافیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی اورکیس کی سماعت کافیصلہ کیاہے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ایسے ہی معطل نہیں کر سکتے ،ہم سن کر ہی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق این اے 75 ڈسکہ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی،پی ٹی آئی کے اسجد علی نے الیکشن کمیشن فیصلہ معطل کرنےکی استدعاکررکھی ہے ۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ایسے ہی معطل نہیں کر سکتے ،ہم سن کر ہی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ عدالت فیصلہ کرےگی حلقے میں یا چند سٹیشنز پر پولنگ ہو،دوبارہ الیکشن توہوگا، دیکھنایہ ہے محدودپیمانے پریاپورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کراناہے،الیکشن کمیشن کااحترام کرتے ہیں یہ ایک آئینی ادارہ ہے،الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کا شیڈول بھی تبدیل کردیا ،شاید کیس عدالت میں زیرالتواپر تاریخ تبدیل ہوئی ۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت درخواست پر الیکشن کی تاریخ تبدیل کی ۔الیکشن کمیشن کی ہدایت پر حلقے میں کچھ تبادلے اور تقرریاں ہونا ہیں ۔

معاون وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کورونا میں مبتلا ہیں ،سلمان اکرم نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ سلمان کو سنے بغیر کیس کافیصلہ نہیں کرینگے ،الیکشن کمیشن نے تفصیلی جواب جمع کرایا آج جائزہ لے لیتے ہیں ۔جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ ہم اس معاملے کو نمٹانا چاہتے ہیں ،چاہتے ہیں امیدوارکھلے ذہن سے الیکشن میں جائیں ۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول آگے کردیا،الیکشن کمیشن کے احکامات یونہی معطل نہیں کریں گے،عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ الیکشن کمیشن کاجواب پڑھیں،معاملے کا ہرپہلوسے جائزہ لیں گے۔

جسٹس مظاہرنقوی نے استفسار کیاکہ الیکشن کے حوالے سے آراونے رپورٹ کب دی؟ریٹرننگ افسرکمیشن کے سامنے کب پیش ہوئے؟وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ 25 فروری کومختصرحکم نامہ جاری کیاگیا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ تفصیلی فیصلہ کب آیا ؟وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ مختصرحکم نامہ جاری کرنے کااختیارصرف اعلیٰ عدلیہ کاہے،عدالت نے کہاکہ کیاالیکشن کمیشن نے آراورپورٹ کے علاوہ بھی انکوائری کرائی؟وکیل درخواست گزار نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے دوبارہ کوئی انکوائری نہیں کرائی۔
وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ آراونے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ صرف 23 پولنگ سٹیشنزپرمسئلہ تھا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ یہ کہاں لکھاہے باقی جگہ پولنگ کاعمل نارمل تھا؟تحریک انصاف نے ریٹرننگ افسرکی رپورٹ پڑھ کرسنائی ۔وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو 23 پولنگ سٹیشنزکے ٹائٹل سے نوٹس بھجوائے،تصادم اورقتل کے واقعات نظراندازنہیں کئے جا سکتے،آراو،ڈی آراوکی رپورٹ کچھ اورہے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ تصادم کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ میری فیملی نے 2018 کے الیکشن میں ووٹ ڈالا،میری فیملی نے واپس آ کرپولنگ عمل کی تعریف کی،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ 2018 کاانتخاب پرامن تھا،الیکشن پرامن ہونےکی وجہ پاک فوج کی تعیناتی تھی،این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں فوج تعینات نہیں تھی،الیکشن کمیشن نے امن وامان کیلئے پولیس پربھروسہ کیا۔
جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرایا؟،وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ آئی جی پنجاب نے جواب داخل نہیں کرایا،جسٹس عمرعطا بندیال نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کوتوہین کانوٹس جاری کردیا؟وکیل نے کہاکہ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق حلقے کے حالات اب بھی پہلے والے ہیں،محکمہ داخلہ کی رپورٹ پرپولنگ کی تاریخ میں توسیع کی گئی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہاکہ یہ ویڈیووالاکلچرختم ہوناچاہیے،ہرکسی کی آتے جاتے،چلتے ہوئے ویڈیوزبنالی جاتی ہیں،کوئی ایک الیکشن بتادیں جہاں ایسے واقعات نہیں ہوئے،بدقستمی سے یہ ہماراالیکشن کلچربن گیا ہے۔

جسٹس عمرعطابندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیاکہ کیا آپ نے کبھی ووٹ کیا؟پی ٹی آئی وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ جی میں نے ووٹ ڈالاہے،ہماراکلچرہے جب ہارجائیں تودوبارہ الیکشن کاواویلامچادیتے،الیکشن کمیشن خوددلائل اخذکرتاخودہی فیصلہ جاری کردیتا،سپریم کورٹ نے سماعت 19 مارچ تک ملتوی کردی اورالیکشن کمیشن سے حلقے میں انتخابی اخراجات کی تفصیل طلب کرلی،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ انتخابی اخراجات کی تفصیل جانناچاہتے ہیں،عدالت نے کہاکہ حلقے میں ہوائی فائرنگ کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.